The insufficient budget for education and lack of Girls High Schools in Momand Agency
مہمند ایجنسی کے تعلیمی بجٹ اور گرلز ہائی سکولوں کی عدم موجودگی

تحریر-: ضیاء اللہ مہمند
مہمندایجنسی میں اس وقت شرح خواندگی بڑھانے کیلئے تعلیمی ایمر جنسی نافذکردی گئی ہیں تاکہ سوفیصدبچے،بچیاں تعلیم حاصل کرسکے اس مقصد کوحاصل کرنے کیلئے محکمہ تعلیم اور پولیٹیکل انتظامیہ سکولوں پرچھاپے مار رہے ہیں تاکہ اساتذہ کو ڈیوٹی کا پابند اور سکول داخلوں سے محروم بچوں،بچیوں کو سکولوں میں داخل کرسکے۔تعلیمی ایمر جنسی نافذ کرنا اچھا اقدام مگر اس کے نتائج حاصل کرنا ضروری ہے۔ مہمند ایجنسی کے ٹوٹل سالانہ ترقیاتی بجٹ 1426ملین روپے میں تعلیم کیلئے 307ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جوکہ مجموعی بجٹ کا 21فیصد حصہ ہے اتنا زیادہ رقم مختص کرنے کا مقصد مہمند ایجنسی میں تعلیم کے شرح کو بڑھانا ہے مگراس کے باوجود بھی مہمند ایجنسی میں زنانہ تعلیم کی شرح خواندگی 12فیصد ہے جو کہ آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔مہمند ایجنسی کے سرحدی تحصیل بائزئی میں صرف 5گرلز پرائمری سکول موجود ہے جسمیں GGPSخیر جان کلے ،غنم شاہ، شمسی کلے، جرکلے ،بید منئی کلے، اور جعفر کلے سڑہ خواہ قائم ہیں جوکہ گزشتہ 7 سالوں سے ایجنسی میں جاری آپریشن اور لوگوں کے نقل مکانی کی وجہ سے ان میں سے چار سکول بند ہے ان میں ایک گرلز پرائمری سکول سوران درہ گزشتہ 6ماہ سے کھول دیا گیا ہے اس تحصیل میں کوئی گرلز مڈل وہائی سکول موجود نہیں ہے جسکی وجہ سے یہاں طالبات علم کی روشنی سے محروم ہورہے ہیں۔
بیرونی دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ قبائلی عوام زنانہ تعلیم کے مخالف ہے مگر حقائق سے نا واقف لوگ قبائلی عوام کے زخموں پر مزید نمک ڈال رہے ہیں ۔یہی حال مہمند کے 2 تحصیلوں پنڈیالی اور امبار کابھی ہے جہاں طالبات کے لئے کوئی گرلز ہائی سکول موجود نہیں ہے تحصیل امبار میں قائم واحد گرلز مڈل سکول کوتاترپ میں صرف ایکSET ٹیچر ہے ایک ماہ قبل مزید دوCTٹیچر کی تعیناتی کی گئی ہیں تاہم ایک مقامی باشندے کے مطابق ابھی تک وہ ڈیوٹی کو حاضر نہیں ہوئی ہیں ۔یہاں کے طالبات مڈل کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے 19کلومیٹر دور باجوڑ ایجنسی میں واقع گرلز ہائی سکول کو جانے پر مجبور ہوتے ہیں یا مجبوراً مزید تعلیم چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ علاقے میں کم سفری سہولیات کی وجہ سے طالبات کو سکول جانے میں کافی مشکلات پیش ہوتے ہیں اسکول میں زیر تعلیم ساتواں جماعت کی طالبہ کے والد انور خان نے بتایا کہ پورے تحصیل میں صرف ایک گرلز مڈل سکول مزاق کے سوا کچھ نہیں تعلیمی ایمرجنسی کا نعرہ لگانے والے پہلے تعلیمی ادارے قائم کریں اور بعد میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کریں انکے مطابق ہماری بچیاں 19کلومیٹردور گرلز ہائی سکول کو مجبوراً نہیں جاسکتی ۔جسکی وجہ سے وہ تعلیم چھوڑ رہے ہیں ۔تحصیل پنڈیالی میں بھی 2گرلز مڈل سکول قائم ہے ان دونوں سکولوں میں تقریباً330سے زائد طالبات زیر تعلیم ہے ان میں گورنمنٹ گرلز مڈل سکول ملک ایلم کلے میں ہائی کلاسوں کیلئے بلڈنگ کو2006میں تعمیر کیا گیاہیں مگر ابھی تک سٹاف نہ دینے کی وجہ سے کلاسیں شروع نہیں ہوئی ہے جو کہ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے والوں کیلئے ایک کھلا چیلنج ہے اسلئے طالبات ہائی سکول نہ ہونے کی وجہ سے یا تو تعلیم چھوڑ رہے ہیں یا تقریباً 22کلومیٹر دور واقع یکہ غنڈ تحصیل میں مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے گرلز ہائی سکول کو جانے پر مجبور ہوتی ہیں۔

اسسٹنٹ ایجنسی ایجوکیشن آفیسر زنانہ غلنی کے مطابق اس وقت تحصیل پنڈ یالی میں سب سے زیادہ گرلز ہائی کلاسیں شروع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں طالبات کی تعداد زیادہ ہے اس کیلئے اپنے ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کولیٹر بھی ارسال کی ہے اگر یہا ں پر گرلز ہائی سکول کو سٹاف فراہم کیا گیا تو طالبات کی شرح خواندگی میں اضافہ ہوسکتی ہے۔

اس حوالے سے ڈائریکٹر ایجوکیشن فاٹا ہاشم خان آفریدی نے مؤقف دیتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی ایمرجنسی کا مقصد اساتذہ کو ڈیوٹی کا پابند بنانا،غیر حاضر اساتذہ کو مختلف قسم کی سزائیں دینا ہیں۔ جس علاقوں میں گرلز ہائی سکولوں کی بلڈنگ بنائی گئی ہیں اس کیلئے وزارت سیفران کو سٹاف کی منظوری کیلئے لیٹر ارسال کئے ہیں اور انکے منظوری کے بعد ان سکولوں میں جلد کلاسیں شروع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کے دوران محکمہ تعلیم کے درجنوں غیرحاضر اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتی کی گئی ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں غیر حاضری کی صورت انکے ٹرانسفر، معطلی جیسے اقدامات اٹھائیں گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ مہمند ایجنسی میں سالانہ بجٹ کے 21فیصد حصہ تعلیم پرخرچ ہونے کے باوجود 2تحصیلوں میں گرلز ہائی سکول اور ایک تحصیل میں گرلز مڈل سکول موجود نہیں، ڈائریکٹر نے جواب دیاکہ جس علاقوں میں طالبات کی زیادہ تعداد ہو وہاں سکول قائم کرنے کو ترجیح دی جاتی ہیں ۔ اکثر سکول کے ابتدائی کلاسوں میں تعداد زیادہ اور مڈل سیکشن تک پہنچ جانے میں پھر تعداد کم ہوتی ہیں ۔ ہمارے کوشش ہیں کہ تعلیمی شرح بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔
اس سلسلے میں ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ حامد الرحمان نے بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے متعدبند گرلز پرائمری سکولوں کو کھول دیا گیا ہے زنانہ تعلیمی شرح کو بڑھانا اور لڑکیوں کیلئے تعلیم کی موقع دینے کیلئے بجٹ میں تعلیم کیلئے زیادہ رقم مختص کئے ہیں اور اس مقصد کیلئے گورنر خیبر پختونخواہ انجنئیراقبال ظفر جھگڑا کی ہدایت پر مہمند ایجنسی سمیت پورے فاٹا میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہیں جسکی وجہ سے مہمندایجنسی میں مثبت نتائج حاصل ہوئی ہیں تمام سٹاف کو حاضری کا پابند اور ایجنسی میں تقریباً 80 فیصد بچے، بچیوں کو سکول میں داخل کرانے کیلئے کامیاب مہم چلائی گئی ہیں۔ جن علاقوں میں تعلیمی اداروں یاسٹاف کی کمی ہو اس کیلئے سنجیدگی سے کوشش کریں گے غیرحاضر سٹاف کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سالانہ بجٹ کی 21 فیصد حصہ خرچ ہونے کے باوجود کم زنانہ تعلیمی شرح پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور 21صدی میں بھی مڈل وہائی گرلز سکولوں سے محروم علاقوں کے طالبات کو بھی تعلیم جیسے بنیادی حق دیاجائے تاکہ قبائلی بچیاں بھی تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم کانام روشن کرنے کیلئے کردار ادا کرسکے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*