Delays in the construction of Momand Marble City
مہمند ماربل سٹی کے تعمیراتی کام تاخیر کا شکار

تحریر -: ضیاء اللہ مہمند
مہمند ایجنسی میں ماربل صنعت کو فروغ دینے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو یہاں راغب کرنے کیلئے حکومت نے2010 میں ”مہمند ماربل سٹی” کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ یہاں پر جنوبی ایشیاء میں اعلی کوالٹی کے ماربل سپر وائٹ پایا جاتا ہیں جسکی قیمت فی فٹ تقریباً 500روپے ہیں۔ اسکے علاوہ گرے،بادل ، سلکی سمیت دیگر اقسام کے ماربل یہاں پائی جاتی ہیں۔ اس ماربل سٹی کیلئے لوئر مہمند یکہ غنڈ تحصیل میں 330ایکڑ اراضی حاصل کرکے ستمبر 2012 میں اس پر کام شروع کیا گیا تھا اور اسے جون2017 میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پہلے فیز میں منصوبے کیلئے 1674 ملین روپے مختص کئے گئے تھے۔ یہ منصوبہ ”پاکستان سٹون ڈیولپمنٹ کمپنی ”(PASDEC) اسلام آباد کے تعاون سے شروع کیا گیا ہیں جسکی نگرانی فاٹا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کررہے ہیں۔ فاٹا کے انتہائی اہم نوعیت کی سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ اب سی پیک زون منظور کرنے کی کوشش جاری ہیں تاکہ قبائلی علاقہ بھی سی پیک حصے میں شامل ہو سکے ۔
اس منصوبے کو مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مارچ 2013میں اس وقت کے گورنرانجنئیرشوکت اللہ نے مہمند ماربل سٹی کے زیر تعمیر کام کا دورہ کرکے 132KV گرڈاسٹیشن کا افتتاخ کیا جسکی لاگت 390 ملین روپے تھی۔ اگرچہ اس گرڈاسٹیشن کو مکمل کیا گیا ہیں۔ مگر اسمیں بہت اہم منصوبے ابھی تک مکمل نہیں کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہیں کہ ماربل سٹی کی تعمیر کا کام سست روی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔ایک طرف اسکے انتہائی دور اور پہاڑی علاقے میں واقع ہونے پر ماربل فیکٹری مالکان کے تخفظات ہیں تو دوسری طرف اسمیں لیزپرپلاٹ حاصل کرنے والے مالکان متعلقہ حکام کی سست روی پر کافی پریشان ہیں اور اسے سرمایہ کاری کی بجائے مزاق سمجھ رہے ہیں۔

اس میں میچنی تا ماربل سٹی 58ملین روپے سے تعمیر ہونے والے 4.5کلومیٹر سڑک، 390ملین روپے سے تعمیر ہونے ولا 132KV گرڈاسٹیشن ، 12ملین سے تعمیر ہونے والا انڈسٹریل پارک،164ملین روپے سے تعمیر ہونے والا باؤنڈری وال، 7 ملین لاگت کے ٹیلی فون کیبل وانٹرنیٹ سہولت کا کام سوفیصد مکمل کیا گیا ہیں مگر اس منصوبے کے اہم حصے پانی کی فراہمی کا 50فیصد ، ماربل سٹی کے اندر بجلی کنکشن کیلئے ایچ ٹی لائن کا15فیصد ، سیوریچ سسٹم کا 10فیصد ،ماربل سٹی کے اندر لنک روڈ کا مکمل منصوبہ ابھی تک زیر تعمیر ہیں اور FDAحکام اسے ایک میگاپراجیکٹ قرار دیکرمکمل ہونے کا حتمی وقت نہیں دیتا۔

اس منصوبے سے 18ہزار افراد کو مقامی سطح پر روزگار ملنے کی توقع ہے جس سے بے روزگاری کی شرح کافی حد تک کنٹرول ہوگا جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کی یہاں آمد سے ماربل کاروبار کو مزید فروغ ملیں گا۔ اسکے لئے فیکٹری مالکان کو 10لاکھ روپے عوض 8 کنال فی پلاٹ سوسال کی لیزپر دی گئی ہیں اور قرعہ اندازی کے ذریعے ابھی تک پہلے فیز میں 60 پلاٹس تقسم کئے گئے ہیں۔ تاہم لیزپر پلاٹ حاصل کرنے والے مالک ملک سعیدنے بتایا کہ ایک طرف حکومت ماربل کاروبار کو فروغ دینے کے وعدے کرتے ہیں مگر دوسرے طرف ابھی تک یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے جسکی وجہ سے انکے امیدوں پر پانی پھیر گیا ہے۔
ماربل ایسوسی یشن کے صدر حاجی شاکراللہ جوکہ خود مہمند ماربل سٹی میں لیزپرپلاٹ حاصل کیا ہے مؤ قف دیتے ہوئے بتایا کہ دوردرازعلاقے میں تعمیر ہونے والے ماربل سٹی کیلئے ہم نے شبقدر تحصیل کے قریب زمین حاصل کرنے کی تجویز دی تھی مگر پہاڑوں میں واقع زمین حاصل کرکے اب اس کے تعمیراتی کام انتہائی سست روی کا شکار ہیں ۔ جو کہ قومی خزانے کے پیسے ضائع ہونے کا اندیشہ ہیں۔ وہاں پر ابھی تک پانی ،بجلی لائن ،ماربل سٹی کے اندرروڈ، ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال جیسے بنیادی سہولیات فراہم نہیں کئے گئے ہیں تو فیکٹری مالکان وہاں کیسے کارخانہ لگائیں گے۔ حکومت فیکٹری مالکان کو چائنہ اور ترکی کے جدید قسم کی مشینری قسطوں پر فراہم کریں تو وہاں تمام فیکٹر ی مالکان کاروبار شروع کرنے کو تیار ہے ورنہ کوئی اپنے خرچے پر وہاں پاکستانی مشینری لگانے کو تیار نہیں۔ ہمارے ساتھ FDA کے سابق حکام نے جو وعدے (پانی ، بجلی، سیوریچ سسٹم، ہسپتال ،ہنر سیکھنے کے مزکر قائم کرنا ) کئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں کئے ہیں اور اگر یہی حال رہا تو ہماری آئندہ 5 برس میں بھی اسکے منصوبے مکمل کرنے کی توقع نہیں۔
اس حوالے سے اسسٹنٹ منیجر فاٹا ڈیولپمنٹ اتھارٹی نور محمد نے بتایا کہ ماربل سٹی کے 2فیزوں پر کام مکمل کردیاگیاہے جسمیں132KVگرڈاسٹیشن کا قائم ،7.5 کلومیٹر لمبا باؤنڈری وال، واٹر سپلائی سکیم مکمل کیاگیا ہے جبکہ باقی کام بھی تیزی سے جاری ہیں جوکہ رواں سال جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ فاٹا کا سب سے بڑا میگا پراجیکٹ ہونے کی وجہ سے سخت حالات میں بھی اسکی تعمیراتی کا کام جاری رکھا گیا تھا اور ہماری کوشش ہے کہ اسکو جلدازجلد مکمل کیا جائے ۔ ان کے مطابق ماربل سٹی میں 900ملین لاگت کے مختلف قسم کی ٹرنینگ کیلئے ایک سنٹر بھی قائم کیا جائے گا جبکہ 40بستروں پر مشتمل ہسپتال بھی ماسٹر پلان کا حصہ ہے ان کے مطابق دوسرے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیلئے جلد اشتہار جاری کرکے مزید پلاٹ دیئے جائینگے۔ ماربل سٹی کو سی پیک زون میں شامل ہو نے کی توقع ہے جس سے مہمند ایجنسی میں ماربل سے وابستہ روزگار کو فروغ ملے گا جبکہ بے روزگاری کم ہونے میں کافی مدد گار ثابت ہوگا۔
اگر ماربل سٹی کو بروقت تعمیر کرکے جدید مشینری کے ذریعے ماربل پروڈکٹس بنایا جائے تو اس سے نہ صرف ایجنسی بلکہ پورے ملک کے معیشت پر اچھے اثرات ہونگے۔ FDAحکام کو پہلے کی طرح وعدوں کی بجائے تعمیراتی کام عملی طور پر تیزکرنے کی ضرورت ہے تاکہ زمین کے لیزہولڈر جلد از جلد اپنے کارخانے شروع کرکے لوگوں کو روزگار فراہم کرسکے تاکہ قومی خزانے کااتنا خطیر رقم کے خرچ ہونے کے متوقع اہداف حاصل کیے جاسکے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*