The presence of Model Dairy Farm in Bajaur Agency has become a dream fulfilment for the locals
باجوڑ ایجنسی میں پہلا ماڈل ڈیری فارم کے قیام سے لوگوں کی معاشی زندگی کی بہتری کی امید

باجوڑ ایجنسی میں لوگوں کا زراعت کے بعد دوسرا زیادہ تر دارومدار لائیوسٹاک یعنی موشی پالنے پر ہے اور محکمہ لائیو سٹاک باجوڑ کے فراہم کردہ دوستاویزات کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں 2006 میں کی گئی مویشی شماری کے تحت باجوڑ میں رجسٹرڈ مویشوں کے تعداد 378867تھی جسمیں 132274گائے،15207بھینس،53025بھیڑ اور 173358بکریاں تھے اور خچر، گدے اور گھوڑوں کی تعداد 5003تھی۔ اسی کے علاوہ مرغیوں کی تعداد جو الگ شمار کی گئی تھی وہ 697000تھی۔ محکمہ لائیو سٹاک باجوڑ کے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر ڈاکٹراحمد یونس کے کا کہنا تھا کہ مویشیوں کے تعداد میں اب مزید اضافہ ہوا ہوگا کیونکہ یہاں باجوڑ میں لوگ زیادہ مویشی پالنے کو ترجیح دیتے ہے جسمیں میں گائے سرفہرست ہے کیونکہ اس سے دوسرے مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ بنیادی وجہ اس سے دودھ حاصل کرنا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ تجارتی پیمانے کے لئے گائے اور بھینس پالتے ہیں اور اس کے دودھ بازاروں میں فروخت کے لئے بیجتے ہیں۔ ڈاکٹر احمد یونس کے مطابق باجوڑ میں انہوں نے صرف بڑے بازاروں(مارکیٹوں ) کا سروے کیا ہے جہاں پر دودھ دوکانوں پر فروخت ہوتی ہے جسمیں میں یومیہ بیس ہزار لیٹرز سے لیکر پچیس ہزار لیٹر ز دودھ کی فروخت ہو تی جبکہ گھروں میں ذاتی استعمال کے لئے دودھ کی پیداوار اس سے الگ ہے جس کی اس کے پاس کو ئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پچیس چیلر مشین یعنی دودھ کو ٹھنڈا رکھنے والے فریزر نما مشینیں باجوڑ میں مختلف دودھ فروشوں کو مفت دئے ہیں تاکہ اس کی کاروبار گرمیوں کے موسم میں متاثر نہ ہو اور صارفین کو معیاری دودھ فراہم کر سکیں۔باجوڑ ایجنسی میں دودھ کے زیادہ طلب کے پیش نظرحکومت نے سال 2011-12 کوباجو ڑ میں تحصیل خار میں گیری کے مقام پرسولہ کنال اراضی پر ایک ماڈل ڈیری فارم کا بنیاد رکھا

۔جس کو 2016-17 ۔ میں مکمل کیا گیا ہے ۔ڈاکٹر احمدیونس کے فراہم کردہ معلومات کے تحت اس ماڈل ڈیری فارم کی بلڈنگ کی تعمیر پر پانچ کروڑ ستر(57000000 )لاکھ روپے لاگت آیا ہے جسمیں 96لاکھ روپے اراضی کی خریداری کے مد میں ادا کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گائے کی خریداری اور اس ماڈل فارم کے لئے دوسرے ضروری آلات کے خریداری کے لئے 4کروڑ رپے مختص کئے گئے ہے جو اس پر خرچ ہو گی ۔ اس فارم میں پچاس گائے رکھنے کا منصوبہ ہے جس میں موجودہ وقت میں تیس گائے ہیں جس میں بیس کے ساتھ بچے بھی ہیں۔

جبکہ باقی کے گائے کے لئے ٹینڈر ہو چکا ہے اور اس کو بھی عنقریب لایا جائیگا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں گائے کی تعداد بڑھا یا جائے گا۔ گائے کے خوراک (چارہ)کے لئے پہلے لیز پر زمین حاصل کرنے کا منصوبہ تھا لیکن اس پر اخراجات زیادہ آنے کے وجہ سے اس منصوبے کو ترک کر کے اب اس کے لئے پشاور سے روزانہ کے حساب سے ٹھیکیدار کے زریعہ تیار چارہ لایا جاتا ہے ۔اس فارم میں سارے گائے اچھی فریزین ساہوال کراس نسل کی ہے جو باجوڑ کے موسم کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ فارم ایک نرسری فارم بھی ہوگی جسمیں گائے کے بچھڑے پالے جائینگے جس سے فارم میں گائے کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو مقامی لوگوں میں رعایتی نرخوں پر بھی فروخت کی جائے گا تاکہ لوگوں کو گھروں پر اچھی نسل کے گائے مل جائے اور اس کی ضروریات پوری ہو جائے ۔ ڈاکٹر احمدیونس کے مطابق اس ڈیری فارم میں دودھ کی پیداوار یومیہ فی گائے دس کلو سے لیکر بارہ کلو تک ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ پندرہ کلو تک پہنچ جائیگی۔ اس فارم میں گائے کے دیکھ بھال کئے لئے پندرہ ملازمین کام کررہے ہیں

جس میں 2 وٹرنری ڈاکٹر زبھی شامل ہے جو گائے کی دیکھ بھال کرتا ہے یعنی اس کے خوراک اور ہر چیز کا خیال رکھتا ہے اور اس میں کوئی عفلت کی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ ہو رہی ہے ۔ اس فارم میں گائے کے گوبر کو کارآمد بنانے کے لئے بائیو گیس کا پلانٹ بھی لگایا جارہاہے جس سے ایک 500KV جنریٹر چلائی جائیگی جس سے اس فارم کی بجلی کی ضرورت پوری ہوگی اور اس بائیو گیس کی ٹیکنالوجی کو باجوڑ ایجنسی میں عام سطح پر بھی متعارف کیا جائیگا ۔ باجوڑ کے اس ماڈل ڈیری فارم سے ایک مہینہ پہلے دودھ کی پیداوار شروع ہو چکی ہے اور یومیہ مارکیٹ کو 170 سے لیکر 190کلو تک دودھ 65روپے فی کلو کے حساب سے مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں جو حتمی ریٹ نہیں ہے کیونکہ اس کے فروخت کیلئے محکمہ لائیو سٹاک نے ابھی تک حتمی ریٹ مقرر نہیں کیا ہے اس کے لئے جلد محکمہ لائیو سٹاک مقامی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت سے حتمی ریٹ مقرر کر یگی جس سے صارفین کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس ڈیری فارم سے عام لوگوں کو فائدہ ہو اس لئے وہ ڈیری فارم کے دودھ کو پرچون بنیادوں پر فروخت کو ترجیح دینگے اور پانچ سے لیکر دس کلوسے زیادہ کسی کو فروخت نہیں کرینگے تاکہ عام لوگوں کوخالص اور عمدہ دودھ باسانی مل سکیں ۔باجوڑ ایجنسی کے مرکزی خار بازار میں پچلے پندرہ سالوں سے دودھ کے فروخت کا کاروبار کرنے والے شال پاچہ جو اس ڈیری فارم سے یومیہ 150 کلو سے لیکر 170 کلو تک دودھ خرید تا ہے کہتے ہے کہ پہلے اس کے ساتھ دودھ کے کمی کا سامناہوتا تھا

اگر چہ وہ باجوڑ میں سب سے زیادہ دودھ فروخت کنندہ ہے اور 600کلو تک دودھ وہ روزانہ روخت کرتا ہے جو اس کو باجوڑ کے مختلف علاقوں سے آتے ہیں اور گاہکوں کے ڈیمانڈ پورا نہیں کرسکتے تھے لیکن اب اس فارم کے دودھ کے ساتھ اس پر گاہکوں کے ڈیمانڈ کا دباؤ کم ہوا ہے اور ہر گاہک کو بروقت دودھ کی سپلا ئی کرتا ہے جو اس کے لئے ایک خوش آئند بات ہے۔ اس سے اس پر گاہکوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور نئے گاہک بھی اس کے فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جس میں اکثریت تعلیم یافتہ لوگوں کی ہے۔شال پاچہ کا مزید کہنا تھا اگر چہ اس ڈیری فارم کے دودھ اس کو عام دودھ کے مقابلے میں تین روپے فی کلو مہنگا ملتا ہے لیکن یہ خالص اور عمدہ ہے اور گاہک اس کے ڈیمانڈ زیادہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب دوسرے لوگ بھی دودھ فروشی کے کاروبار کے طرف آرہے ہے اور کچھ لوگوں نے کاروبار کو شروع کرنے کے لئے اس سے مشورہ لینے کے لئے رابطہ بھی کیا ہے جو اس ڈیری فارم کی کامیابی کی زندہ مثال ہے ۔باجوڑ کے اس ماڈل ڈیری فارم سے باجوڑ کے تقریبا 4 لاکھ آبادی کو فائدہ ہوگا لیکن موجودہ وقت میں زیادہ فائدہ صرف تحصیل خار کے لوگ اٹھا رہے ہے ۔ کیونکہ اگر ایک طرف فارم میں گائے کی مطلوبہ تعداد پورا نہیں ہے تو دوسری طرف اس کی پیداوار بھی ابتدائی مراحل میں اور صرف خار بازار میں اس کی فروخت ہو رہی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ گائعں خرکنوں کا رہائشی ملک نور یوسف نے اس ماڈل ڈیری فارم کے بارے میں بتایا کہ یہ اس فارم کا قیام حکومت کی طرف سے ایک احسن اقدام ہے اور اس سے اس کو ضرور فوائد ملے گی کیونکہ اس کو بتایا گیا ہے کہ اس فارم سے اس کو تازہ اور معیاری دودھ کے ساتھ ساتھ ارزاں نرکوں پر اعلی نسل کے گائے بھی دینگے تاکہ وہ اپنے گھروں میں پال سکیں اور دودھ کی کمی پوری کرسیکں اور اس سے گھروں کے سطح پر کاروبار پر چھوٹے پیمانے پر شروع ہو۔ تو ان تمام باتوں کا اس کے ساتھ وعدہ حکومت کے طرف سے ہوا ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ اس کو پورا کرینگے۔ لیکن اس وقت فارم نیا نیا کھولا گیا ہے تو اس لئے ابھی ہم زیادہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ احمد یونس نے اپنی باتوں میں یہ بھی بتایاکہ باجوڑ ایجنسی میں دودھ کے طلب زیادہ ہونے کے پیش نظر وہ چا ہتا ہے کہ مستقبل میں باجوڑ ایجنسی کے تمام آٹھ تحصیلوں میں اسی طرح کے ڈیری فارم چھوٹے پیمانے پر بنائے جائے تاکہ لوگوں کو ان کے اپنے علاقوں میں خالص دودھ دستیاب ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اس ماڈل ڈیری فارم میں گائے کے افزائش کرینگے۔ اور پھر اس کو نئے فارم میں منتقل کرینگے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسے لوگوں کی بھی حوصلہ افزائی کرینگے جو اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ۔ڈاکٹر احمد یونس کے یہ باتیں کہا تک درست ثابت ہو گی اس کے بارے میں اب کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*