Would the daring demands of the people of Momand, Bajaur Agency for the provision of health facilities will be fulfilled by the construction of a hospital?
باجوڑ ایجنسی ,صحت کے سہولیات کی کمی

باجوڑ ایجنسی کے علاقہ ماموند جو دو تحصیلوں بڑا ماموند اور چھو ٹا ماموند پر مشتمل ہے جس کی آبادی پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہے کیونکہ صحیح آبادی کے بارے میں2017 کے مردم شماری کا ابھی تک نتیجہ نہیں آیا۔ علاقہ ماموند جو ایک پہاڑی اور دوشوار گزار پسماندہ علاقہ ہے جسمیں دوسری بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ عرصہ دراز سے صحت کے سہولیات کی بھی کمی ہے۔ علاقے کے لوگوں اپنے مریضوں کو ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار لا تے تھے جو دور ہونے کے وجہ سے وہ بہت سے مشکلات سے دو چار ہوتے تھے اور بغض اوقات ان کے مریضوں کو بروقت علاج نہ ملنے کے وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔علاقے کے لوگوں کا حکومت سے ہر وقت ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس کو صحت کی سہولتیں اپنے علاقے میں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے۔لوگوں کے اس پر زور اور درینہ مطالبہ کوپورا کرنے کے لئے حکومت نے تحصیل لوئی ماموند میں لرخلوزو کے مقام پر ایک کیٹگری ڈی ہسپتال کی بنیاد سال 2012میں رکھی گئی۔ اس کا تخمینہ لاگت 396.582میلین روپے تھا۔ اس ہسپتال کو سال 2015ء میں مکمل کردیا گیا۔ اب اس ہسپتال کی بلڈنگ مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے ۔ یہ ہسپتال 40 بیڈز پر مشتمل ہے جسمیں میں میڈیکل،سرجیکل،گائنی،اور چلڈرن وارڈز اور 12بارہ پرائیویٹ رومززکے ساتھ ایک بارہ بیڈز پر مشتمل ایمرجنسی وارڈ بھی ہے ۔ہسپتال میں ڈاکٹرز اور دوسرے عملے کے لئے رہائشی کالونی بھی بنائی گئی ہے ۔ اس ہسپتال کے لئے تمام ضروری آلات لائے گئے ہیں جو ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار میں پڑے ہیں اور اس کو اس ہسپتال کو منتقل نہیں کئے گئے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس ہسپتال کے خالی آسامیوں پرحکومت کے طرف سے باقاعدہ طور پر تعیناتی نہیں ہوئی ہے کیونکہ وہ ایک لمبا چھوڑا مرحلہ ہے۔ اس لئے حکومت کی طرف سے ماموندکے لوگوں کو فوری صحت کے سہولیات پہنچانے کے لئے مقامی انتظامیہ نے اس ہسپتال کو تکمیل کے بعد ہنگامی بنیادوں پر علاقے کے عمائدین کے مطالبے پر نومبر 2016ء کو عوامی خدمات کے لئے کھول دیا گیا۔ اور اس میں4 میڈیکل ڈاکٹرز،3میڈیکل ٹیکنیشن،1ایل ایچ وی ،2دائی،1ای پی آئی ویکسینیٹر، 3کلاس فوراور1سویپر تعینات کئے گئے ہیں ۔

ڈاکٹر خلیل اللہ جو اس ہسپتال میں میڈیکل آفیسر کے حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اس کا کہنا تھا کہ اب اس ہسپتال میں روزانہ کے بنیاد پر OPD ہورہی ہے جسمیں یومیہ 150 مریض آتے ہیں اور پچلے ایک سال میں 12ہزار مریضوں کا معاینہ کیا جاچکا ہے ۔ اس کے ساتھ یہاں پر ملیریا کے مریضوں کے لئے مفت لیبارٹری ٹیسٹ کئے جاتے ہیں

اور اس کو مفت دوائیاں دی جاتی ہے اور ہیپاٹائیٹس کے مریضوں کو علاج کے لئے ہیڈ کوارٹر ہسپتال خاربیجتے ہیں اور وہاں پر اس کے مفت علاج ہوتے ہیں۔ڈاکٹر خلیل اللہ کے مطابق اس ہسپتال سے علاقہ ماموند کے پانچ لاکھ آبادی مستفید ہورہی ہے جو پہلے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار کو علاج کے لئے جاتے تھے جو اب یہاں آتے ہیں۔ جسمیں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہوتی ہیں کیونکہ ماموند کے لوگوں کی اکثریت عریب ہیں اور یہاں کے مردحضرات محنت مزدوری کے سلسلے میں دوسرے شہروں کوجاتے ہیں تو گھروں میں مرد حضرات کے عیرموجودگی کے صورت میں خواتین بچوں کے ساتھ یہاں علاج کے لئے آتے ہیں پہلے یہ لوگو ں ہیڈ کوارٹرہسپتال خار جاتے تھے جو ایک تکلیف دہ عمل تھا اور زیادہ مالی اخراجات کے ساتھ ساتھ اس کا بہت قیمتی وقت بھی ضائع ہو رہا تھا۔ آ یاز تبسم جو ماموند کے علاقہ ڈمہ ڈولہ کا رہائشی ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں اس ہسپتال سے آسانی آئی کہ لیکن یہ صرف OPDکے مریضوں کے لئے ہے یعنی معمولی مریضوں کے لئے ہے ۔ یہ مریض بھی ہم پہلے ہیڈ کوارٹر خار ہسپتال لے جاتے تھے اب ہیاں لاتے ہیں لیکن سخت اور تشویش ناک مریضوں اب بھی ہم خار ہسپتال لے جاتے ہیں ۔اور ہم کواپنے مریضوں کو ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جانے میں بہت تکلیف اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ گاڑیوں کے نہ ہونے کے وجہ سے ہم اپنے مریضوں کو وقت پر ہسپتال نہیں پہنچا سکتے اور کئی دفعہ مریض راستے میں دم توڑ تے دیتے ہے۔

اس نے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ہسپتال میں تمام وارڈز کو کھول دیں اور تمام عملے کو فوری تعینات کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں ایمرجنسی سروس بھی فوری طور پر شروع کریں تاکہ علاقے کے لوگوں کوہیڈ کوارٹرہسپتال خار جانے سے نجات مل جائے۔ نیاگ قلعہ کے ملک بخت روخان نے بتایا کہ ہسپتال کی عمارت تو بہت شاندار بن گیا ہے

لیکن اس میں سہولیات کا فقدان ہے کیونکہ اس میں نہ تو ایمرجنسی سروس موجود ہے اور نہ کوئی وارڈ کھولا گیا ہے ۔ اس ہسپتال میں ابھی تک کوئی سپیشلسٹ کو تعینات نہیں کیا گیا صرف چند میڈیکل افیسرز کو عارضی بنیادوں پر تعینات کیا گیا ہے جو علاقے کے ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اب بھی جب اس کو ئی مریض کی حالت تشویشناک ہوں تو وہ خار ہسپتال لائے جاتے ہیں جس سے مریض کے ساتھ اس کے لواحقین کو بہت تکلیف ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک مریض نہیں لائے جاتے۔ اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ اس ہسپتال سے لوگوں کوعلاج معالجے کی سہولت بروقت ملے تو اس کو چاہئے کہ اس ہسپتال میں تمام عملہ فوری تعینات کیا جائے اور چوبیس گھنٹے ایمرجنسی سروس کے ساتھ ساتھ تمام وارڈز کو کھول دیں ۔ ڈبر کے رہائشی نورالعزیز کا کہناتھاکہ اس ہسپتال سے اس وقت عوام کو صحیح معنوں میں فائدہ ہو گاکہ اس کے تمام وارڈز اور ایمرجنسی کو فوری فعال کیاجائے کیونکہ اس میں چند ڈاکٹرز اور دوسرے چند ٹیکنیشن تعینات کئے گئے ہے جو ماموند کے علاقے کے لئے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں سینکڑوں کی تعداد میں اسامیاں خالی پڑی اس لئے اس میں جتنے بھی خالی آسامیاں ہے اس کو فوری طورپر کیاجائے کیونکہ علاقہ ماموند کے بہت سے نوجوانوں نے ہیلتھ سے متعلقہ پیشہ ورانہ ٹریننگ کی ہے اور بے روزگار ہیں تو اس کو اس پر تعینات کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کوصحت کے سہولیات کے ساتھ روزگار بھی میسر ہوں۔ لرخلوزو کے کیٹگری ڈی ہسپتال کے ڈاکٹر خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایجنسی سرجن کو لوگوں کے تمام مطالبات پہنچائے ہے اوران سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں مزید سٹاف کے تعیناتی کے ساتھ ساتھ چوبیس گھنٹے ایمرجنسی سروس کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکیں ۔ اور اس کو امید ہے کہ بہت جلد اس پر عمل درآمد ہوگی ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماموند کے تما م علاقوں کو ہسپتال کے ساتھ مربوط کرنے کے لئے سیوئی سے لرخلوزو ہسپتال تک ایک رابطہ سڑک پر کام تیزی سے جارہی ہے جو عنقریب مکمل ہوگی جس سے تحصیل چھوٹا ماموند کے لوگوں کو اپنے مریضوں کوہسپتال لانے میں بہت آسانی ہوگی اور اس کی آمدورفت کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوگا۔ لیکن لرخلوزو ماموند کیٹگری ڈی ہسپتال سے علاقہ ماموندکے لوگوں کو حقیقی معنوں میں کب فائدہ ہوگا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*