The number of Out Of School Children in Dir Payeen School has reached42,000
دیر پائین پرائمری سطح پر سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 42688 تک پہنچ گئی

چکدرہ (شاہ فیصل افغانی سے)دیر پائین میں پرائمری سطح پر سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 42688 تک پہنچ گئی ،دوہزار بارہ میں یہ تعداد 35353 رہی ،پرائیویٹ سکولوں میں 6459 طلبہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ،دینی مدرسوں میں288 کے اضافہ کے ساتھ 4034 طلبہ زیر تعلیم ہیں ،ضلع میں 1164معذور بچے بھی عام سکولوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں ،دیر پائین کے 151 پرائمری سکولوں کی چار دیواری نہیں ہے ، 495میں پینے کا پانی ،267 میں بجلی اور 85 میں لیٹرین ندارد ، ضلع کے 1137پرائمری سکولوں میں 149701 طلبہ و طالبات کیلئے 3983 اساتذہ تعینات ہے ، محکمہ تعلیم دیر پائین کو صرف تنخواہوں کی مد میں 4 ارب 68 کروڑ 95 لاکھ 68 ہزار چار سو تین روپے ادا کی جارہی ہے لیکن نتائج اس کے بر عکس ہے ۔ صوبائی حکومت کی اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت محکمہ تعلیم ، خزانہ دفتر اور ملاکنڈ بورڈ سمیت خیبر پختونخوا کے سرکاری ویب سائٹ سے ملنے والے معلومات اور دستاویزات کے مطابق سال دوہزار پندرہ سولہ کے دوران ضلع دیر پائین میں 46 سکولوں کے اضافے کے ساتھ پرائمری سکولوں کی تعداد 1137 ، تدریسی عملہ 3983تک پہنچ گئی ، صوبائی حکومت کے ایک کمرہ ایک استاد کے فارمولے اور بنیادی سہولیا ت کی فراہمی کی غرض سے ضلع کے پرائمری سے سے انٹر تک 772 نئے کلاس رومز اور اضافی کمروں کی تعمیر کیلئے کنڈیشنل گرانٹ کی مد میں 2014-15 اور2016-17 کے دوران1 ارب 4 کروڑ93لاکھ 65 ہزار پچاس روپے کی رقم فراہم کی گئی جو والدین اورسکول ٹیچر پر مبنی (پی ٹی سی ) کونسل کے ذریعے خرچ کی گئی ،ضلع کے 75 مکتب سمیت1212 پرائمری سکولوں میں سے 1146 کو پشتو سے اردو میڈیم میں تبدیل کردیا گیا ،مکتب سکولوں کی تعداد 181 سے کم ہوکرصرف 75 رہ گئی ، پرائمری سکولوں میں کلاس روزمز کی تعداد 387 کے اضافے کے ساتھ3304 ہوگئی ، محکمہ فنانس سے ملنے والی دستاویز کے مطابق ضلع کے 1517 تعلیمی اداروں کے ملازمین کو صرف تنخواہوں کی مد میں سالانہ 4ارب 68 کروڑ 95 لاکھ 68 ہزار چار سو تین روپے فراہم کئے جارہے ہیں

جس کی کلکولیشن سے سرکاری سکول میں ایک بچے پر اوسط ماہانہ 1834 روپے خرچ ہو رہے ہیں جو ضلع میں موجود کسی بھی پرائیویٹ ادارے کی فی اوسط سٹوڈنٹ فیس سے ذیادہ ہے قومی خزانے سے سالانہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ضلع میں سرکاری پرائمری سکولوں میں نتائج اس کے بر عکس مل رہے ہیں آج پرائمری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد میں اضافہ کے بجائے دوہزار بارہ تیرہ سے بھی 3003 کی کمی کے ساتھ149701 ہوکر رہ گئی ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں یہ تعداد6459 کے اضافے کے ساتھ37519 ہوگئی ہے

دینی مدرسوں میں بھی یہ تعداد288 کے اضافے کے ساتھ 4034 ہوگئی ہے سکول بھروں مہمات اور آگاہی پروگراموں کے باوجود ضلع میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی کی بجائے 7335 کا اضافہ ہوکر یہ تعداد 42688 تک پہنچ گئی جو دوہزار تیرہ میں 35353 تھی ،قومی خزانے سے ایک ارب 4 کروڑ روپے سے ذائد خرچ ہونے کے بعد بھی ضلع کے 151پرائمری سکولوں کی چار دیواری ، 495 میں پینے کا پانی ،267 میں بجلی جبکہ85 میں لیٹرین کی سہولت نہیں ہے ، سرکاری سکولوں پر عدم اعتماد کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہی سکولوں کے 95 فیصد اساتذہ کے اپنے بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں جس پر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو ماتم کرنے کی ضرورت ہے دوسری جانب دوہزار بارہ تیرہ اور پندرہ سولہ کے اعداد و شمار کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ششم سے دہم تک پرائیویٹ سکولوں میں طلباء کی نسبت طالبات کی تعداد میں حیران کن حد تک کمی ہوئی جس کے اسباب معلوم کرنے کی غرض سے چکدرہ میں گندھارا گروپ آف ایجوکیشن سسٹم کے منیجنگ ڈائریکٹر خالد سیف اللہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ چونکہ والدین بیٹیوں کی نسبت بیٹوں کی تعلیم پر ذیادہ توجہ دیتے ہیں جبکہ بیٹیوں کو صرف خانہ پوری کیلئے سکول میں داخل کرواتے ہیں چونکہ پرائمری سطح پرائیویٹ ادارے محلوں میں دستیاب ہوتے ہے اسلئے والدین بچے بچیوں کو اکٹھے ایک ہی سکول میں داخل کرواتے ہیں لیکن پرائمری کے بعد ترجیحات اور ہوتی ہیں اسلئے مڈل اور سیکنڈری سطح پر پرائیویٹ اداروں میں طالبات کی تعداد کم جبکہ لڑکوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔

ضلع میں سرکاری پرائمری سکولوں کی زبوں حالی ،داخلوں میں کمی اور ناقص کارکردگی کے حوالے سے ا عداد و شمار پر جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل اینڈ فی میل ڈاکٹر حافظ ابراہیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد ارشاد نے محکمہ تعلیم کے ایک آفیسر(نام نہیں بتایا) سے فون نمبر 03018522567 پر رابطہ کرایا جنہوں نے رپورٹ کے مندر جات کو حقائق کے برعکس قراردیا جبکہ ضلع ناظم حاجی محمد رسول خان سے ان کے دفتر کے ٹیلی فون نمبر09459250027 اور موبائل نمبر03468002333 پر رابطہ کیا گیا لیکن ان کے مصروفیات کے باعث بات نہ ہوسکی ۔

RTI Application

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*