Irregularities in the payment system of Benazir Income Support Program (BISP)
بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں بے ضابطگیوں اور ادائیگی میں گھپلوں کاانکشاف

چکدرہ(سیدظفرعلی شاہ سے)بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)کے سروے میں بے ضابطگیوں اوررقم ادائیگی میں گھپلوں کاانکشاف ،بائیومیٹرک سسٹم کے تحت فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے کے باعث متعددمعمرخواتین کورقم کی ادائیگی نہیں ہورہی ہے، سینکڑوں مستحق افراد نظراندازجبکہ ان کی جگہ ریٹائرڈاور حاضرسروس ملازمین سمیت صاحب حیثیت لوگ مالی فوائد لے رہے ہیں،تحصیل آدینزئی میں 17976 خواتین رجسٹرڈ ہیں جنہیں ہر تین ماہ بعدفی کس 4834 روپے دیئے جاتے ہیں ڈیبٹ کارڈ (بی ڈی سی) ختم کرکے رقم وی وی ایس سسٹم کے تحت فنگرپرنٹس کے ذریعے دینے سے مزید مسائل نے جنم لیاہے معمر خواتین کے لئے کارڈ کادوبارہ اجراء ناگزیر ہے،تفصیلات کے مطابق تحصیل آدینزئی دیرلوئر میں لگ بھگ 18ہزارخواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)کے تحت رجسٹرڈہیں جنہیں وی بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے ہر تین ماہ بعد فی کس 4834 روپے دیئے جاتے ہیں اس پروگرام کے تحت فوائد لینے والوں کودی جانے والی ریلیف اور انہیں درپیش مشکلات کے حوالے سے جب بی آئی ایس پی تحصیل آفس چکدرہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد زمان خان سے رابطہ کیاگیاتو انہوں نے بتایاکہ ابتداء میں ایم این ایز،سینیٹرزاور ایم پی ایز کو بالترتیب کو اٹھ اٹھ اوردو دو ہزار فارمزدیئے گئے تھے جوانہوں نے سیاسی مجبوری کے تحت منظورنظرغیرمستحق لوگوں میں تقسیم کرائے تھے اور وہی لوگ اس پروگرام سے مالی فائدہ لے رہے ہیں ،انہوں نے بتایاکہ بی آئی ایس پی کے تحت رجسٹرڈ افراد کوجون 2010 تک فی کس تین ہزارروپے بذریعہ ڈاکخانہ ملاکرتے تھے

مگراس میں بڑے پیمانے پرگھپلے کرکے مستحق افراد کے کروڑں روپے خوربردکئے گئے تھے اوراس صورتحال پرقابو پانے کی غرض سے مئی2012سے بی ڈی سی سسٹم متعارف کرایاگیااورتب سے لیکراب تک دیر لوئر کے مستحقین کو تعمیر بنک لمیٹڈاوراس کے بزنس پارٹنرٹیلی نار پاکستان کے ذریعے ہرتین ماہ بعدفی کس کے حساب سے 4834 روپے دیئے جاتے ہیں تاہم بی ڈی سی سسٹم میں خامیاں ہونے کی وجہ سے جنوری 2017سے مستحقین کو رقم فراہمی کے لئے بائیومیٹرک سسٹم بنا کر مختلف علاقوں میں کسٹومرسنٹرزبنائے گئے ہیں

تاہم معمر ہونے کے سبب نشان انگوٹھاکی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے80 تک مستحق خواتین پچھلے ایک سال سے رقم ملنے سے محروم ہیں کیونکہ فنگر پرنٹ کے لئے موجود ڈیوائس اور نادرا ان کے نشان انگوٹھاکی تصدیق کرانے سے قاصر ہے ،بی آئی ایس پی سنٹرمیں موجود باڈوان دیر لوئر کی رہائشی معمر خاتون مسماۃ تاجبرو بیوہ خیرزمین مرحوم نے فریاد کرتے ہوئے بتایاکہ نشان انگوٹھاکی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے ایک سال سے انہیں رقم نہیں دی جارہی اور مسلسل بی آئی ایس پی کے دفاتر کے چکرلگاتے تھک چکی مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے، اے ڈی محمد زمان نے بتایاکہ بی آئی ایس پی معمر خواتین کے لئے بی ڈی سی کارڈ سسٹم دوبارہ شروع کرنے پر غور کررہا ہے مگریہ کب ہوگااس حوالے سے حتمی طورپر کچھ نہیں کہاجاسکتا اورجب تک بی ڈی سی یاکوئی اور پروگرام شروع نہیں کیاجاتاتب تک مستحق خواتین کو رقم نہ ملنے کایہ معاملہ جوں کاتوں رہے گاجبکہ 150تک مزید مستحق خواتین ایسی ہیں جن کے اکاؤنٹ ڈی کریڈٹ ہوجانے کے سبب انہیں رقم کی ادائیگی رکی ہوئی ہے اور جب تک دوبارہ تحقیقات نہیں کی جاتییہ خواتین بھی اسی طرح متاثررہیں گی انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل تااکتوبر 2013 جب مستحقین کو رقم کی ادائیگی بی ڈی کارڈز کے تحت کی ہوتی تھی تو یہاں جعلی کارڈز کا سکینڈل سامنے آیاتھاجس میں تعمیر بنک کا عرفان نامی ملازم نے جعل سازی کرکے مستحقین کی ڈیڑھ کروڑسے زائدکی رقم ہڑپ کرلی تھی اورمقدمہ بننے پراسے گرفتار کیاگیاتھا مگر بعدمیں عدالت سے ضمانت پر رہاہوکر وہ بیرون ملک فرارہوگیاہے ،دیر لوئر میں مستحقین کو پچاس ہزارکے لگ بھگ کارڈجاری ہوئے تھے جن میں تقریباََ پانچ ہزارمستحق خواتین کے کارڈز جعلی نکلے تھے جن کے فی کس بار ہزار روپے کے حساب مجموعی طورپر چھ کروڑ روپے سے زائد رقم ہڑپ کرلی گئی تھی، انہوں بتایاکہ بی آئی ایس پی کے تحت وسیلہ حق پروگرام میں قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق خواتین کوکاروبار کی غرض سے فی کس تین لاکھ روپے ملاکرتے تھے جس میںیہاں کی اکتالیس خواتین کے نام قرعہ اندازی میں نکل آئے تھے جن میں صرف ایک خاتون کو تین لاکھ جبکہ بقیہ چالیس خواتین کو فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم ملی تھی اور انہیں فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے کی ادائیگی کرنا ابھی باقی تھاکہ وسیلہ حق پروگرام بند کیاگیاجس کے سبب40 خواتین کی مجموعی طور پر60لاکھ روپے کی رقم ڈوب گئی ہے، انہوں بتایا کہ یہ ایک مؤثر پروگرام تھاجس کے تحت ملنے والی رقم سے بیشتر مستحقین ذاتی کاروبارشروع کرکے خوب منافع کمارہے ہیں جبکہ یہاں وسیلہ تعلیم پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے مستحق افرادشعبہ تعلیم میں ریلیف سے محروم ہیں ۔بی آئی ایس پی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی جانب سے بتائے گئے معلومات کے تناظر میں معمر خواتین کے لئے بی کارڈسسٹم کادوبارہ اجراء،غیرمستحق افرادکے خلاف چھان بین،وسیلہ حق اور وسیلہ تعلیم پروگرام کااجراء،ڈی کریڈٹ کیسزکوجلدنمٹانااورمبینہ خوردبرد میں ملوث ملازمین کے خلاف تحقیقات اور محکمانہ کارروائی بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے اعلیٰ حکام کے لئے بڑاچیلنج ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*