رپورٹ سباکزئی ڈیم

رپورٹ اخترگل مندوخیل

ایم پی اے مفتی گلاب کاکڑ نے بتایا کہ سباکزئی ڈیم کی اونچائی متعلقہ محکمہ وابڈا کی ملی بھگت سے کم ہوئی ہے اس سے نہ زمینداروں کو بلکہ ژوب ڈویژن کے چھ اضلاع بجلی سے محروم ہوگئے اس بارے میں وابڈا منسٹر سے ملاقات ہوئی انہوں نے وعدہ کیا کہ ڈیم کی اونچائی واپس 190فٹ کردی جائیگی لیکن ابھی تک اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کوئی شنوائی ملی ہے ڈیم کو طویل مدت میں رکھنے کیلئے چیک ڈیموں کی ضرورت ہے مچھلیوں کی حفاظت کیلئے سپل وے پر جال لگائی جائی کینال کو آف گریڈ کیا جائے کیونکہ پانی کا مقدار زیادہ ہے نہروں کی مرمت کیلئے ایڈیشنل امونٹ میں 6کروڑ روپے رکھے تھے جو ہمارا شیر تھا وہ فنڈز نہیں دیئے گئے سباکزئی ڈیم ژوب کے حدود میں واقع ہے نہروں پر ضلع قلعہ سیف اللہ واٹر مینجمنٹ فنڈز خرچ کررہی ہے جو فنڈز خرچ کی گئی ہے اس میں ناقص مٹیرئیل استعمال ہوئی ہے ڈی جی زراعت واٹر مینجمنٹ ناقص کام کی تحقیقات کریں اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے مزید فنڈز خرچ کرنے کا اختیار صرف ژوب واٹر مینجمنٹ دی جائے

واٹرمینجمنٹ کے توسط سے نہروں پر30کروڑ94لاکھ روپے خرچ ہورہی ہے فیز ون11کروڑ 55لوکھ19ہزار روپے فیز ٹومیں 6کروڑ 60لاکھ روپے خرچ ہوئی جبکہ 18کروڑ 55لاکھ19ہزار روپے فنڈز خرچ ہوئی جبکہ12کروڑ روپے فنڈز باقی ہے
قبائلی راہنما حاجی ظاہر شاہ کاکڑنے بتایا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 2002ضلع لورالائی میں سباکزئی ڈیم کا اعلان کیا سباکزئی ڈیم بلوچستان میں پشتون بلیٹ کیلئے ایک میگا پراجیکٹ تھا 100میگاواٹس بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر 80فٹ ڈیم کا اونچائی کم کردی گئی ڈیم کی ڈلیوری35کیوسک پانی ہے جبکہ 80فیصد گنجائش اب بھی موجود ہے جس سے 22ہزار ایکڑ اراضی زیر اٰب آسکتی ہے اس وقت زیر اب زراعی اراضی ساڑھے سات ایکڑ ہے ایکچمنیٹ ایریا 11سو مربع کلو میٹر ہے نہروں کی پختگی نہ ہونے کی وجہ سے پانی راستے میں ہی ضائع ہورہی ہے ایریگشن پرانے ویر کا پانی کچے نہروں میں آتی ہے سباکزئی سے سوڑہ تک 3کلومیٹر پانی کچہ نہر میں بہہ رہی ہے جو عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے پوری طور پر پختہ کی جائے
سباکزئی کے ملک میر ولی کاکڑ نے پتایا کہ ڈیم کی تعمیر سے قبل وابڈا سے ہمارے چند شرائط تھے کہ ڈیم ملازمیتں مقامی لوگوں کے ہونگے لیکن60ملازمین میں سے ہمیں 14ملازمتیں دی گئی سباکزئی کے150گھرانوں کو ہسپتال ایک سکول اور واٹر سپلائی دینگے ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے نہر سے ہمیں زراعت کیلئے بہت کم پانی دیا ہے ایک شرط زمین کی قیمت شہر کے مطابق ہو تین ایکڑ اراضی دیا ہے ابھی تک ماوضہ نہیں دیا گیا ہے سابق صدر نے بجلی کا وعدہ کیا لیکن ڈیم کی انچائی کم کرکے پرویز مشرف کا وعدہ ادھورا رہ گیا انہوں نے حکام بالا سے اپیل کی کہ ہمارے شرائط و مطالبات حل کئے جائے

ایکسین ایریگشن شیخ جمعہ خان مندوخیل نے بتایا کہ سباکزئی ڈیم شہر سے65کلومیٹر جنوب و مغرب میں واقع ہے سباکزئی ڈیم 2ارب 50کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہواکام کا آغاز 2005میں ہوا اور2009میں مکمل ہو ا ڈیم کی انچائی114فٹ ہے زخیرہ پانی32ہزار 7سو ایکڑجبکہ قابل استعمال14ہزار ایکڑ فٹ ہے ڈیم سے لوکل 15ہزار افراد مستفید ہورہے ہیں سباکزئی سوڑہ رودھ کی لمبائی699سکوائر کلومیٹر ہے ڈیم میں 32ہزار 7سو کیوسک پانی زخیرہ کیا جاتا ہے جس سے ایک نہر نکالی گئی ہے جس میں 35کیوسک پانی برائے زراعت کیلئے مہیا کیا جاتا ہے رائٹ نہر سے23کلومیٹرزراعی زمین3337ایکڑجبکہ ڈسچارج13کیوسک پانی،لفٹ ون نہرلبائی 11کلومیٹرزراعی زمین1792ایکڑڈسچارج7کیوسک پانی،لفٹ ٹو نہر لمبائی6کلومیٹرزیر اب زمین3072ایکڑڈسچارج آف نہر12کیوسک پانی ہے زراعی زمین268ایکڑ زراعی پانی3کیوسک ہے سباکزئی نہروں کی صفائی پر 20لاکھ روپے خرچ ہوئی جو اس پر 9سال بعد کام ہوئی انہوں نے بتایا کہ ڈیم کی حفاظت کیلئے دونوں اطراف پر پیچنگ کی ضرورت ہے جس پر 2کروڑ روپے لاگت آئیگی ڈیم35سال بعد مٹی سے بھر جائیگی جسکی تدارک کیلئے چیک ڈیمز بنائی جائے حکومت نے لوگوں کو زمینوں کا معاوضہ دیا ہے ڈیم اور کینال کو آف گریڈ کیا جائے جہاں نہریں ٹوپھوٹ کے شکار ہے عنقریب مرمت کی جائیگی اور نہروں سے پانی کی چوری کسی صورت برداشت نہیں کرینگے جس نے بھی کوشش کی سختی سے پیش آینگے
سبکزئی ڈیم ژوب فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحمد سلیم نے بتایا سبکزئی ڈیم مچھلی کے افزائش و بڑھوتری کے اعتبار سے نہایت موزوں ڈیم ہے اس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پائی جاسکتی ہے جس میں کامیاب نسلیں سلور کارپ،بگ ھیڈ کارپ،گراس کارپ اور کامن کارپ ہیں مچھلی کے یہ نسلیں سال میں تقریباً تین کلو وزن ڈیم کے پانی میں دے سکتی ہیں سبکزئی ڈیم سالانہ 10سے 12ہزار کلو مچھلی دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ڈیم میں مچھلی کیلئے فی الحال قدرتی خوراک وافر مقدار میں موجود ہیں مچھلی کا گوشت پروٹین کا ایک بہترین زریعہ ہے اور اس میں کولسٹرول نہ ہونے کے برابر ہے جو دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے نہایت مفید ہے ڈیم میں مچھلیوں کیلئے بڑا مسلہ آبی پرندے،فش مارکیٹ نہ ہونا،لاکل آبادی میں مچھلی کو بطور خراک استعمال نہ کرنادوسرے صوبوں کے مارکیٹوں تک سپلائی میں زیادہ اخراجات اور مچھلی تازہ نہیں پہنچانا،لاکل سطح پر ماہی گیر نہ ملنا اور دوسرے صوبوں سے ماہی گیر لانا اور رہائش دینا بڑا مسلہ ہیں پکنک پر لوگ آتے ہیں مچھلیوں کا شکار کیلئے جنریٹر اور چھوٹے بموں کا استعمال گندگی و پلاسٹک پھینکتے ہیں جو کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا ہے ڈیم پر متعلقہ محکموں کے ملازمین کی کمی ہے اور کچھ محکموں جیسے ماحولیات،جنگلات،وائلڈ لائف نے ابھی تک کام شروع نہیں ہیں ڈیم میں بچہ مچھلی ڈالنے کیلئے دوسرے صوبوں سے منگوانا پڑتا ہے یہ بچہ مچھلی ڈیم تک زندہ نہ پہنچانا ہمارے لئے بڑا چیلنج ہوتا ہے اس مسلے کوحل کرنے کیلئے محکمہ فشریز بلوچستان نے ژوب سوڑہ پل کے مقام پرسیمی کواٹر واٹر کے قیام ساڑھے چار کروڑ روپے کی لاگت سے ایک پروجیکٹ شروع کیا ہے تاکہ نہ صرف سبکزئی ڈیم بلکہ پورے علاقے کو بچہ مچھلی کی فراہمی کو آسان بنایا جاسکے اور لوکل لوگوں میں مچھلی فارمنگ کر شعور کو اجاگرکیا جاسکے